کوی ہم کو جب دین کی بات بتاتا ہے تو ہم اسکا حلیہ دیکھتے ہیں اگر سفید
داڑھی ہے ماتھے پر نماز کا ٹیکہ ہے اور ہاتھ میں تسبح ہے تو کہتے ہیں یہ
دین دار ہے مگر کوی شخص موڈرن لباس میں ہو تو ہم یہ کہتے ہیں یہ کیا جانے
دین کس چڑیا کا نام ہے
اج سعودی شیخ العریبی نے اس موضوع پر ایک سچی کہانی سنای وہ سن لیجے
میں ایک دفعہ لندن سے سعودی آرہا تھا راستے میں ایک جگہ ٹراینزٹ تھا ہم جب لونج میں پہنچے تو میں اپنے ساتھ کچھ تبلیغیCD ساتھ رکھتا ہوں وہ لوگوں میں تقسیم کرتا ہوں یہ میری عادت ہے میں نے ایک خاتون کو جو سر سے پیر تک برقعے میں تھی اس کے ساتھ اسکی بیٹاں بھی تھیں میں سمجھا عرب خاتون میں نے ان بیٹی کو اسلام کیا اور اس کو کیسٹ دی مگر مجھے لگا جیسے وہ میری بات سمجھ نہیں رہی مگر جب ماں نے اشارہ کیا تو اسنے وہ لے لی مگر اسنے مجھے عربی میں شکریہ ادا کیا مجھے لگا وہ عرب نہیں ہے مگر پھر ہم جب سعودی ایرپورٹ پر اترے تو اسکے ساتھ ہی ایک انگریز بھی کھڑا تھا کومیری دوست سے محو گفتگو تھا اور وہ اپنی فیملی کو لینے ایا تھا میں نے دیکھا وہ برقعہ پوش انکی فیملی تھی میں نے کہا کیا تم اسکو جانتے ہو اسنے کہا ہاں یہاں سرجن ہے اور انکی وائف برٹش ہے وہ بھی سرجن ہیں اور حال ہی میں ان دونوں نے اسلام قبول کیا ہے
پھر میرے دوست نے پوچھا تم جانتے ہو ان کو اسلام کی طرف کس نے راغب کیا ؟اور کس کی تبلیغ سے مسلمان ہوے؟ میں نے کہا ضرور کسی بڑے مبلغ نے کیا ہوگا؟
اسنے ہنستے ہوے کہا نہیں انکو اک سوڈانی میل نرس نے مسلمان کیا ہے جو کسی انجن کی طرح سگریٹ پھونکتا ہے جسکی بڑی بڑی مونچھوں اسکو ہونٹوں کو چھاپے رکھتی ہیں اس نے نہ صرف انکو بلکہ بہت سے لوگوں کو مسلمان بنایا ہے مگر اس کا حلیہ کسی بھی طرح مسلموں سے نہیں ملتا ہے مگر الله نے اسکے زبان میں تاثیر دی ہے
انھوں نے کہا لوگوں کو مت دیکھو ان کے حلیہ سے ان کو مت جانچو بلکہ یہ دیکھو وہ کیا کہہ رہے کس طرف تمھیں بلارہے
ھدایت کی راہ دیکھانے والا کوی بھی اس کا ساتھ دو
اور یہ بھی شیطان کا ہتھیار ہوتا ہے وہ کہتا ہے دین صرف دین دار کے پاس ہوتا یہی وجہ اج کل اسلام کے خلاف جتنی سازش کی جاتی ہیں وہاں ان لوگوں کو خرید کر کی جاتی ہیں
بنواسرئل میں دین کا بگاڑ دینی علما ہی کی وجہ سے ایا تھا
انکی بات واقعی دل کو لگی اج ہمارے اندر دین میں جتنی برائ وہ سب دین کے ٹھکداروں نے ہمکو دی ہیں
مصوم ذہنوں کو دین کے نام پر بدل رہیں ہر ایک نے اپنا فرقہ بنالیا خود کو سہی دوسروں کو کافر بنادیتے ہیں
یہ سوچنے والی بات
اج سعودی شیخ العریبی نے اس موضوع پر ایک سچی کہانی سنای وہ سن لیجے
میں ایک دفعہ لندن سے سعودی آرہا تھا راستے میں ایک جگہ ٹراینزٹ تھا ہم جب لونج میں پہنچے تو میں اپنے ساتھ کچھ تبلیغیCD ساتھ رکھتا ہوں وہ لوگوں میں تقسیم کرتا ہوں یہ میری عادت ہے میں نے ایک خاتون کو جو سر سے پیر تک برقعے میں تھی اس کے ساتھ اسکی بیٹاں بھی تھیں میں سمجھا عرب خاتون میں نے ان بیٹی کو اسلام کیا اور اس کو کیسٹ دی مگر مجھے لگا جیسے وہ میری بات سمجھ نہیں رہی مگر جب ماں نے اشارہ کیا تو اسنے وہ لے لی مگر اسنے مجھے عربی میں شکریہ ادا کیا مجھے لگا وہ عرب نہیں ہے مگر پھر ہم جب سعودی ایرپورٹ پر اترے تو اسکے ساتھ ہی ایک انگریز بھی کھڑا تھا کومیری دوست سے محو گفتگو تھا اور وہ اپنی فیملی کو لینے ایا تھا میں نے دیکھا وہ برقعہ پوش انکی فیملی تھی میں نے کہا کیا تم اسکو جانتے ہو اسنے کہا ہاں یہاں سرجن ہے اور انکی وائف برٹش ہے وہ بھی سرجن ہیں اور حال ہی میں ان دونوں نے اسلام قبول کیا ہے
پھر میرے دوست نے پوچھا تم جانتے ہو ان کو اسلام کی طرف کس نے راغب کیا ؟اور کس کی تبلیغ سے مسلمان ہوے؟ میں نے کہا ضرور کسی بڑے مبلغ نے کیا ہوگا؟
اسنے ہنستے ہوے کہا نہیں انکو اک سوڈانی میل نرس نے مسلمان کیا ہے جو کسی انجن کی طرح سگریٹ پھونکتا ہے جسکی بڑی بڑی مونچھوں اسکو ہونٹوں کو چھاپے رکھتی ہیں اس نے نہ صرف انکو بلکہ بہت سے لوگوں کو مسلمان بنایا ہے مگر اس کا حلیہ کسی بھی طرح مسلموں سے نہیں ملتا ہے مگر الله نے اسکے زبان میں تاثیر دی ہے
انھوں نے کہا لوگوں کو مت دیکھو ان کے حلیہ سے ان کو مت جانچو بلکہ یہ دیکھو وہ کیا کہہ رہے کس طرف تمھیں بلارہے
ھدایت کی راہ دیکھانے والا کوی بھی اس کا ساتھ دو
اور یہ بھی شیطان کا ہتھیار ہوتا ہے وہ کہتا ہے دین صرف دین دار کے پاس ہوتا یہی وجہ اج کل اسلام کے خلاف جتنی سازش کی جاتی ہیں وہاں ان لوگوں کو خرید کر کی جاتی ہیں
بنواسرئل میں دین کا بگاڑ دینی علما ہی کی وجہ سے ایا تھا
انکی بات واقعی دل کو لگی اج ہمارے اندر دین میں جتنی برائ وہ سب دین کے ٹھکداروں نے ہمکو دی ہیں
مصوم ذہنوں کو دین کے نام پر بدل رہیں ہر ایک نے اپنا فرقہ بنالیا خود کو سہی دوسروں کو کافر بنادیتے ہیں
یہ سوچنے والی بات
No comments:
Post a Comment